Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
177 - 476
 کرنے والی ہوں ، نہ زنا کرنے والی اور نہ پوشیدہ آشنا بنانے والی۔ پھر جب ان کا نکاح ہوجائے تو اگر وہ کسی بے حیائی کا اِرتِکاب کریں تو ان پر آزاد عورتوں کی نسبت آدھی سزا ہے۔ یہ تم میں سے اس شخص کے لئے مناسب ہے جسے بدکاری (میں پڑجانے) کا اندیشہ ہے اورتمہارا صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 
{ وَمَنۡ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنۡکُمْ طَوْلًا:اور تم میں سے جو کوئی قدرت نہ رکھتا ہو۔} جو شخص آزاد عورت سے نکا ح کی قدرت اور وسعت نہ رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ کسی مسلمان کی مومِنہ کنیز سے ا س کے مالک کی اجازت کے ساتھ نکاح کر لے۔ اپنی کنیز سے نکاح نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ مالک کے لئے نکاح کے بغیر ہی حلال ہے۔ (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۲۵، ۱/۳۶۷)
باندی سے نکاح کرنے کے متعلق 2 شرعی مسائل:
(1)… جو شخص آزاد عورت سے نکاح کی قدرت رکھتا ہو اسے بھی مسلمان کنیز سے نکاح کرنا جائز ہے البتہ اگر آزاد عورت نکاح میں ہو تو اب باندی سے نکاح نہیں کر سکتا۔		   (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۲۵، ۱/۳۶۸)
(2)… احناف کے نزدیک کِتابِیَہ لونڈی سے نکاح بھی کر سکتا ہے جبکہ مومنہ کنیز کے ساتھ مستحب ہے۔ 
(مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۲۲۲)
{ وَاللہُ اَعْلَمُ بِاِیۡمٰنِکُمْ ؕ:اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے۔} اہلِ عرب اپنے نسب پر فخر کرتے اور لونڈیوں سے نکا ح کو باعث ِعار سمجھتے تھے، ان کے اس خیال کی تردید کی گئی کہ نسب میں تم سب برابر ہو کہ سبھی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد ہو لہٰذا لونڈیوں سے نکاح کرنا باعثِ شرم نہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ تم سب ایمان میں مُشْتَرَک ہو کہ تمہارا دین اسلام ہے اور ایمان والا ہونا بڑی فضیلت کا حامل ہے بلکہ فضیلت کا دارومدار تو ایمان اور تقویٰ پر ہے اس لئے جب لونڈیوں سے نکاح کی حاجت ہو تو شرماؤ نہیں ، ان کا ایمان والا ہونا کافی ہے۔ 
(تفسیرکبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۲۵، ۴/۴۹، جمل، النساء، تحت الآیۃ: ۲۵، ۲/۳۹، ملتقطاً)
{ فَاِنْ اَتَیۡنَ بِفٰحِشَۃٍ:تو اگر وہ کسی بے حیائی کا اِرْتِکاب کریں۔} نکاح کے بعد اگر لونڈی زنا کرے تو آزاد عورت کے مقابلے میں اس کی سزا آدھی ہے یعنی آزاد کنواری عورت زنا میں مُلَوَّث ہو تو اس کی سزا سو کوڑے ہے اور لونڈی کی سزا اس سے آدھی یعنی پچاس کوڑے ہے۔ لونڈی چاہے کنواری ہو یا شادی شدہ اس کی سزا پچاس کوڑے ہی ہے ،شادی شدہ لونڈی کو آزاد عورت کی طرح رَجم نہیں کیا جائے گا کیونکہ رجم میں تَنصِیف یعنی اس سزا کو آدھا کرنا ممکن نہیں۔ 
(قرطبی، النساء، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۱۰۲، الجزء الخامس)