Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
174 - 476
عورتوں کو مجاہدین میں تقسیم کر دے اور جو قیدی عورت جس مجاہد کے حصے میں آئے وہ اس کے لئے حلال ہے کہ ملک مختلف ہونے کی وجہ سے ان کا سابقہ نکاح ختم ہو گیا، وہ عورت اگر حاملہ ہے تو وضع حمل کے بعد ورنہ ایک ماہواری آجانے کے بعد اس سے ہم بستری کر سکتا ہے۔
جنگی قیدیوں سے متعلق اسلام کی تعلیمات:
	 فی زمانہ جنگی قیدیوں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، ان پر جو ظلم و ستم ڈھائے جاتے ہیں ان کا تَصَوُّر تک لَرزا دینے والا ہوتا ہے۔ اسلام نے جنگی قیدیوں کے مسئلے میں ایسا بہترین حل پیش کیا کہ جس کی مثال کہیں نہیں ملتی، وہ یہ کہ جنگ میں قید ہونے والے مردوں کو غلام بنا لیا جائے اور عورتوں کو لونڈیاں ، پھر انہیں بھوکا پیاسا رکھنے، طرح طرح کی اذیتیں دینے یا دن رات ان سے جبری مزدوری لینے کی بجائے ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی ہدایت کی، بلکہ فدیہ لئے بغیر یا فدیہ لے کر ہی سہی انہیں چھوڑ دینے کی ترغیب بھی دی، آزاد کرنے پر ثواب کی بے شمار بشارتیں سنائیں ، جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانا لازمی قرار نہیں دیا بلکہ مُکافاتِ عمل کے طور پر صرف اجازت دی کیونکہ اس دور میں جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے کا رواج تھا جس کو اوپر بیان کردہ طریقوں کے مطابق تَدریجا ًختم کیا گیا۔ 
{ وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ:ان کے علاوہ سب تمہارے لئے حلال ہیں۔} یعنی جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کے علاوہ تمام عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ مزید کچھ عورتیں ایسی ہیں کہ جن کا ذکر مذکورہ بالا آیات میں اگرچہ نہیں مگر ان سے نکاح حرام ہے جیسے چار عورتوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے پانچویں سے نکاح، مُشرکہ عورت سے نکاح، تین طلاقیں دینے کے بعد حلالہ سے پہلے اسی عورت سے دوبارہ نکاح، اسی طرح پھوپھی بھتیجی، خالہ بھانجی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا یونہی طلاق یا وفات کی عدت میں نکاح کرنا حرام ہے البتہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام نہیں ، نکاح میں جو رکاوٹ ہے وہ ختم ہونے کے بعد ان سے نکاح ہو سکتا ہے۔
{ اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوٰلِکُمۡ:تم اپنے مالوں کے ذریعے تلاش کرو۔} عورت سے نکاح مہر کے بدلے کیا جائے اور اس نکاح سے مقصود محض لذت نفس اور شہوت پورا کرنا نہ ہو بلکہ اولاد کا حصول، نسل کی بقا اور اپنے نفس کو حرام سے بچانا مقصود ہو۔ یہاں زانی کو تنبیہ کی جا رہی ہے کیونکہ اس کے پیشِ نظر یہ باتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کا مقصود صرف نفسانی خواہش کی تکمیل ہوتا ہے اور یوں وہ اپنے نطفہ ا ور مال کو ضائع کرکے دین و دنیا کے خسارے میں گرفتار ہو جاتا ہے۔