Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
173 - 476
پارہ نمبر…5
وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیۡمٰنُکُمْ ۚ کِتٰبَ اللہِ عَلَیۡکُمْ ۚ وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوٰلِکُمۡ مُّحْصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہٖ مِنْہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ فِیۡمَا تَرٰضَیۡتُمۡ بِہٖ مِنۡۢ بَعْدِ الْفَرِیۡضَۃِ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۲۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں یہ اللہ  کا نوشتہ ہے تم پر اور ان کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے نہ پانی گراتے تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجائے تو اس میں گناہ نہیں بے شک اللہ علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:  اور شوہر والی عورتیں تم پر حرام ہیں سوائے کافروں کی عورتوں کے جو تمہاری ملک میں آجائیں۔ یہ تم پر اللہ کا لکھا ہواہے اور ان عورتوں کے علاوہ سب تمہیں حلال ہیں کہ تم انہیں اپنے مالوں کے ذریعے نکاح کرنے کو تلاش کرونہ کہ زنا کرنے لئے توان میں سے جن عورتوں سے نکاح کرناچاہو ان کے مقررہ مہر انہیں دیدو اور مقررہ مہر کے بعد اگر تم آپس میں (کسی مقدار پر) راضی ہوجاؤ تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ بیشک اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔ 
{ وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ:اور شوہر والی عورتیں۔} ان عورتوں کا بیان جاری ہے جن سے نکاح حرام ہے، یہاں بتایا جا رہا ہے کہ وہ عورت جس کا شوہر ہو وہ دوسرے مرد پر اس وقت تک حرام ہے جب تک پہلے کے نکاح یا اس کی عدت میں ہو البتہ کافروں کی وہ عورتیں جن کے مسلمان مالک بن جائیں وہ ان کے لئے حلال ہیں ، اس کی صورت یہ ہے کہ میدانِ جنگ سے کفار کی عورتیں گرفتار ہوں اور ان کے شوہر دارُ الحَرْب میں ہوں تو بادشاہِ اسلام یا لشکر کامجاز امیر ان