Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
136 - 476
تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بس کرو ،اب تمہارے لئے یہی کافی ہے۔میں حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا کہ آپ کی مبارک آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ 
(بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب قول المقریء للقاریئ: حسبک، ۳/۴۱۶، الحدیث: ۵۰۵۰(
(2)…حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’سورۂ بقرہ، سورۂ نسائ، سورۂ مائدہ، سورۂ حج اور سورۂ نور سیکھو کیونکہ ان سورتوں میں فرض علوم بیان کئے گئے ہیں۔  (مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ النور، ۳/۱۵۸، الحدیث: ۳۵۴۵) 
(3)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’جس نے سورۂ نساء پڑھی تو وہ جان لے گا کہ وراثت میں کون کس سے محروم ہوتا ہے اور کون کس سے محروم نہیں ہوتا ۔ 
(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفرائض، ما قالوا فی تعلیم الفرائض، ۷/۳۲۴، الحدیث: ۵) 
(4)…حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جس نے سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء پڑھی تو وہ اللہتعالیٰ کی بارگاہ میں حکمت والے لوگوں میں سے لکھا جائے گا۔ 
(شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲/۴۶۸، الحدیث: ۲۴۲۴) 
سورۂ نساء کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں یتیم بچوں اور عورتوں کے حقوق اور ان سے متعلق احکام بیان کئے گئے ہیں جیسے یتیم بچوں کے مال کو اپنے مال میں ملا کر کھا جانے کو بڑ اگناہ قرار دیا گیا۔ناسمجھ یتیم بچوں کا مال ان کے حوالے کرنے سے منع کیا گیا اور جب وہ شادی کے قابل اور سمجھدار ہو جائیں تو ان کا مال ان کے سپرد کردینے کا حکم دیاگیا۔ یتیموں کے مال ناحق کھا جانے پر وعید بیان کی گئی۔ اسی طرح عورتوں کا مہر انہیں دینے کا حکم دیا گیا اور مہر سے متعلق چند اور مسائل بیان کئے گئے۔ میراث کے مال میں عورتوں کے باقاعدہ حصے مقرر کئے گئے ۔ ان عورتوں کا ذکر کیا گیا جن سے نسب، رَضاعت اور مُصاہَرت کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہے اور جن عورتوں سے کسی سبب کی وجہ سے عارضی طور پر نکاح حرام ہے۔ ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ شادی کرنے کے احکام بیان کئے گئے اورنافرمان عورت کی اصلاح کا طریقہ ذکر کیا گیا ۔ اس کے علاوہ سورۂ نساء میں یہ مضامین بیان ہوئے ہیں۔ 
(1) …والدین ،رشتہ داروں ،یتیموں ،مسکینوں ، قریبی اور دور کے پڑوسیوں ،مسافروں اور لونڈی غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے کا حکم دیا گیا ۔