سورۃ النِساء
سورۂ نساء کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ نساء مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔ (خازن، النساء، ۱/۳۴۰)
آیات،کلمات اور حروف کی تعداد:
اس میں 24رکوع، 176 آیتیں ، 3045 کلمے اور 16030 حروف ہیں۔ (خازن، النساء، ۱/۳۴۰)
’’نساء‘‘ نام رکھے جانے کی وجہ:
عربی میں عورتوں کو’’نساء‘‘ کہتے ہیں اوراس سورت میں بہ کثرت وہ احکام بیان کئے گئے ہیں جن کا تعلق عورتوں کے ساتھ ہے ا س لئے اسے ’’ سورۂ نساء‘‘ کہتے ہیں۔
سورۂ نساء کے فضائل:
(1)…سورۂ نساء کی ایک آیتِ مبارکہ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا ’’مجھے قرآنِ مجید پڑھ کر سناؤ۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ،میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ یہ تو آپ پر نازل فرمایاگیا ہے!ارشاد فرمایا ’’ہاں (تم پڑھ کر سناؤ) ۔ چنانچہ میں نے سورۂ نساء پڑھی حتّٰی کہ جب میں اس آیت پر پہنچا
فَکَیۡفَ اِذَا جِئْنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا﴿ؕؔ۴۱﴾ (نساء:۴۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان:تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے حبیب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں گے۔