(2) …میراث کے احکام تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے۔
(3)… کن لوگوں کی توبہ مقبول ہے اور کن کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
(4)… شوہر، بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق اور ازدواجی زندگی کے رہنما اصول بیان کئے ہیں۔
(5)… مال اور خون میں مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کے احکام بیان کئے گئے ۔
(6) … کبیرہ گناہوں سے بچنے کی فضیلت بیان کی گئی، حسد سے بچنے کا حکم دیا گیا نیز تکبر، بخل اور ریاکاری کی مذمت بھی بیان کی گئی۔
(7) … جہاد کے بارے میں احکامات بیان کئے گئے۔
(8) …قاتل کے بارے میں احکام،ہجرت کے بارے میں احکام اور نمازِ خوف کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔
(9) …نیک اعمال کرنے اور گناہوں سے توبہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے
(10) …اخلاقی اور ملکی معاملات کے اصول اور جنگ کے بعض احکام بیان کئے گئے ہیں۔
(11) …منافقوں ، عیسائیوں اور بطور خاص یہودیوں کے خطرات سے مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔
(12) …اس سورت کے آخر میں حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں عیسائیوں کی گمراہیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
سورۂ آلِ عمران کے ساتھ مناسبت:
سورۂ نساء کی اپنے سے ماقبل سورت ’’آلِ عمران ‘‘ کے ساتھ کئی طرح سے مناسبت ہے ،جیسے سورۂ آلِ عمران کے آخر میں مسلمانوں کو تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور سورۂ نساء کے ابتداء میں تمام لوگوں کو اس چیز کا حکم دیاگیا ہے۔ سورۂ آلِ عمران میں غزوۂ اُحد کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا تھا اور اس سورت کی آیت نمبر 88 میں بھی غزوۂ احد کا ذکر ہے۔سورۂ آلِ عمران میں غزوۂ احد کے بعد ہونے والے غزوہ ، حمراء ُالاسد کا ذکر ہے اور اس سورت کی آیت نمبر 104میں بھی اس غزوے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دونوں سورتوں میں یہودیوں اور عیسائیوں کے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں باطل نظریات کا رد کیا گیاہے۔ (تناسق الدرر، سورۃ النساء، ص۷۶-۷۷)