Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
126 - 476
کہ وہ اپنی زندگی میں نیک لوگوں کے ساتھ رہے اور انہی کے گروہ میں موت ملنے کی دعا کرے تاکہ ان کے صدقے جنت کی اعلیٰ ترین نعمتوں سے فیضیاب ہواور موت کے بعد نیک لوگوں کے قرب میں دفن ہونے کی وصیت کرے۔حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اپنے مردوں کو نیک لوگوں کے درمیان دفن کرو کیونکہ میت برے پڑوسی سے اسی طرح اَذِیَّت پاتی ہے جس طرح زندہ انسان برے پڑوسی سے اذیت پاتا ہے۔  (کنز العمال، کتاب الموت، قسم الاقوال، الفصل السادس، ۸/۲۵۴، الجزء الخامس عشر،الحدیث: ۴۲۳۶۴)
 	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’میں نے حضرت میاں صاحب قبلہ قُدِّسَ سِرُّہٗ کو فرماتے سنا : ایک جگہ کوئی قبر کھل گئی اور مردہ نظر آنے لگا ۔ دیکھا کہ گلاب کی دو شاخیں اس کے بد ن سے لپٹی ہیں اور گلاب کے دو پھول اس کے نتھنو ں پر رکھے ہیں۔ اس کے عزیزوں نے اِس خیال سے کہ یہاں قبر پانی کے صدمہ سے کھل گئی، دو سری جگہ قبر کھود کر اس میں رکھیں ، اب جو دیکھیں تو دو اژدہے اس کے بدن سے لپٹے اپنے پھَنوں سے اس کا منہ بھَموڑ رہے ہیں ، حیران ہوئے ۔ کسی صاحبِ دل سے یہ واقعہ بیان کیا، انہوں نے فرمایا: وہاں بھی یہ اژدہا ہی تھے مگر ایک ولیُّ اللہ کے مزار کا قرب تھا اس کی برکت سے وہ عذاب رحمت ہوگیا تھا، وہ اژدھے درخت ِگُل کی شکل ہوگئے تھے اوران کے پھَن گلاب کے پھول۔ اِس کی خیریت چاہو تو وہیں لے جاکر دفن کرو ۔ وہیں لے جاکر رکھا پھروہی درختِ گل تھے اور وہی گلاب کے پھول ۔ 					       						(ملفوظات اعلی حضرت، حصہ دوم، ص۲۷۰ )
فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عٰمِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوْ اُنۡثٰیۚ بَعْضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْضٍۚ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَاُخْرِجُوۡا مِنۡ دِیٰرِہِمْ وَاُوْذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَقٰتَلُوۡا وَقُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ وَلَاُدْخِلَنَّہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللہِؕ وَاللہُ عِنۡدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ﴿۱۹۵﴾