ترجمۂکنزالایمان:تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اَکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہوتو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گئے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں اللہ کے پاس کا ثواب اوراللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:تو ان کے رب نے ان کی دعاقبول فرمالی کہ میں تم میں سے عمل کرنے والوں کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا وہ مرد ہو یا عورت ۔تم آپس میں ایک ہی ہو،پس جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اور انہوں نے جہاد کیا اور قتل کردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹادوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (یہ) اللہ کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللہہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔
{ فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ: تو ان کے رب نے ان کی دعاقبول فرمالی۔}ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور انہیں وہ عطا کر دیا جو انہوں نے مانگا اور ان سے فرمایا کہ اے ایمان والوں ! میں تم میں سے کسی مرد یا عورت کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا بلکہ ا س عمل کا ثواب عطا فرماؤں گا۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۵، ۱/۳۳۸)
دعا قبول ہونے کے لئے ایک عمل:
یہاں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمالی۔اس کے بارے میں علماء کرام نے فرمایا ہے کہ یہاں دعا میں پانچ بار ’’ رَبَّنَا ‘‘ آیا ہے اور اس کے بعد دعا کی قبولیت کی بات ہورہی ہے، تو اگر دعا میں پانچ مرتبہ ’’یَا رَبَّنَا ‘‘ کہہ دیا جائے تو قبولیت ِدعا کی امید ہے۔
{ بَعْضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْضٍۚ:تم آپس میں ایک ہی ہو۔}اس کا ایک معنی یہ ہے کہ تم سب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرات حواء رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کی اولاد ہی ہو ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اطاعت پر ثواب ملنے اور نافرمانی پر سزا ملنے میں تم سب ایک ہی ہو ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۵، ۱/۳۳۸)
{ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا:پس جنہوں نے ہجرت کی۔ }ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جنہوں نے میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت کے لئے اپنے وطنوں سے ہجرت کی اور وہ مشرکوں کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں کے سبب اپنے