Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
125 - 476
ترجمۂکنزُالعِرفان:اے ہمارے رب ! بیشک جسے تو دوزخ میں داخل کرے گا اسے تو نے ضرور رسوا کردیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے ۔ اے ہمارے رب ! بیشک ہم نے ایک ندا دینے والے کو ایمان کی ندا (یوں ) دیتے ہوئے سنا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے پس اے ہمارے رب ! تو ہمارے گنا ہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں مٹادے اور ہمیں نیک لوگوں کے گروہ میں موت عطا فرما ۔ اے ہمارے رب! اورہمیں وہ سب عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کرنا۔بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔ 
 { رَبَّنَاۤ: اے ہمارے رب۔} رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بٰطِلًاسے لے کر اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیۡعَادَ تک بہت پیاری دعا ہے۔ اسے اپنے معمولات میں شامل کرلینا چاہیے۔ 
{ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا: اے ہمارے رب!بیشک ہم نے ایک ندادینے والے کو سنا۔ }اس منادی سے مراد سید الانبیاء، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہیں جن کی شان میں ’’ دَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ ‘‘ وارد ہوا ہے یا اس سے قرآنِ کریم مراد ہے۔ 
{ وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبْرَارِ:اور ہمیں نیک لوگوں کے گروہ میں موت عطا فرما۔} یہاں اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے کہ دعا کرو کہ موت بھی نیک لوگوں کے ساتھ ہو یعنی ان کی فرمانبرداری کرتے ہوئے موت آئے اور ان کی مَعِیَّت نصیب ہوجائے۔ 
نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب:
	یاد رہے کہ نیک لوگوں کی صحبت بہت عظیم چیز ہے۔ ربُّ العالَمین عَزَّوَجَلَّنے فرمایا:
وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ (توبہ:۱۱۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان:سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ 
	اورصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو صحبت نے ہی عظیم ترین مرتبے پر فائز کیا۔زندگی میں نیک لوگوں کا ساتھ تو نعمت ہے ہی، مرنے کے بعد بھی نیکوں کا ساتھ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے چنانچہ پسندیدہ بندے کو موت کے وقت فرمایا جاتا ہے :
یٰۤاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ﴿۲۷﴾٭ۖ ارْجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾ فَادْخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾ وَ ادْخُلِیۡ جَنَّتِیۡ ﴿٪۳۰﴾      (سورہ فجر۲۷تا۳۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف اس حال میں واپس آ کہ تو اس سے راضی ہووہ تجھ سے راضی ہو۔ پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہوجااور میری جنت میں داخل ہوجا۔
	 دیکھیں ، فوت ہونے والی روح سے کہا جاتا ہے کہ میرے خاص بندوں میں داخل ہوجا۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے