کمال وجمال اور جلال کی معرفت حاصل کرنے اور اس کے احکام کی بجا آوری کرنے سے انتہائی غفلت کاشکار ہیں اور ان کے علم کی حد صرف یہ رہ گئی ہے جب بھوک لگی تو کھانا کھا لیا، جب پیاس لگی تو پانی پی لیا، جب کام کاج سے تھک گئے تو سو کر آرام کر لیا، جب شہوت نے بے تاب کیا تو حلال یا حرام ذریعے سے اس کی بے تابی کو دور کر لیا اور جب کسی پر غصہ آیا تو ا س سے جھگڑا کر کے غصے کو ٹھنڈا کر لیا الغرض ہر کوئی اپنے تن کی آسانی میں مست نظر آرہا ہے۔
امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِِ فرماتے ہیں ’’اندھا وہ ہی ہے جو اللہتعالیٰ کی تمام صَنعتوں کو دیکھے لیکن انہیں پیدا کرنے والے خالق کی عظمت سے مدہوش نہ ہو اوراس کے جلال و جمال پر عاشق نہ ہو۔ ایسا بے عقل انسان حیوانوں کی طرح ہے جو فطرت کے عجائبات اور اپنے جسم میں غور و فکر نہ کرے،اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل جو تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے اسے ضائع کر دے اور ا س سے زیادہ علم نہ رکھے کہ جب بھوک لگے تو کھانا کھا لیا،کسی پر غصہ آئے تو جھگڑا کر لیا ۔
(کیمیائے سعادت، رکن چہارم، اصل ہفتم، پیدا کردن تفکر در عجایب خلق خدای تعالی، ۲/۹۱۰)
اللہتعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے ۔آمین۔
رَبَّنَاۤ اِنَّکَ مَنۡ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیۡتَہٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنْ اَنۡصَارٍ ﴿۱۹۲﴾ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمٰنِ اَنْ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمْ فَاٰمَنَّا ٭ۖ رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوۡبَنَا وَکَفِّرْعَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبْرَارِ ﴿۱۹۳﴾ۚ رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِؕ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیۡعَادَ ﴿۱۹۴﴾
ترجمۂکنزالایمان:اے رب ہمارے بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر ۔ اے رب ہمارے اور ہمیں دے وہ جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا ۔