یہ ارشادات ذکر فرما کر امام شعرانی نے فرمایا '' جب یہ مرتبہ ہر ولی کی بابت ہے تو ائمہ مجہتدین تو اس مقام کے زیادہ مستحق ہیں'' پھر ارشاد فرماتے ہیں۔ '' ائمہ فقہاء کرام اور صوفیاء حضرات سب اپنے پیروکاروں کی شفاعت کریں گے اور روح نکلتے وقت ان کی نگہبانی کریں گے اور یونہی منکر نکیر کے سوا لات کے وقت اور حشر و نشر اور حساب اور میزان عمل اور پل صراط سے گزرنے کے وقت خیال رکھیں گے اور حشر کے ان مقامات میں سے کسی مقام میں اپنے پیروکاروں سے غافل نہ ہوں گے۔ اس کے بعد ارشاد فرماتے ہیں۔ '' جب مشائخ صوفیاء دنیا و آخرت میں تمام مشکلات اور تکلیفوں میں اپنے مریدوں اور پیروکاروں کی نگرانی فرماتے ہیں۔ تو ائمہ دین کیسے نہ نگرانی کریں گے۔ جو تمام جہاں کی میخیں اور دین کے ستون اور نبی کریم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت پر امین ہیں بلاشبہ وہ ضرور ضرور مدد فرماتے ہیں شیخ الاسلام ناصر الدین لقانی کو وصال کے بعد بعض نیک لوگوں نے خواب میں دیکھا ان سے پوچھا اﷲ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا جواب دیا۔ قبر میں جب منکر نکیر نے سوالات کے لئے مجھے بٹھایا تو حضرت امام مالک تشریف لائے اور کہا کیا ایسے شخص سے بھی اﷲورسول عزّوجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم پر اسکے ایمان کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس کے پاس سے ہٹ جاؤ چنانچہ منکر نکیر ہٹ گئے۔''