جواب میں علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا تھا۔ '' میرے بھائی میں اس وقت تک ۷۵ مرتبہ بیداری کی حالت میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں بالمشافہ حاضر ہوچکا ہوں اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ بادشاہ و امراء کے پاس جانے سے نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم مجھ سے ملاقات ترک کردیں گے تو ضرور قلعہ میں جاتااور بادشاہ سے تمہاری سفارش کرتا ۔ میں ایک خادم حدیث ہوں جن حدیثوں کو محدثین سے اپنے طریقوں سے ضعیف کہا ہے ان کی تصحیح کے لئے حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف محتاج ہوں اور بلاشبہ اس کا نفع تمہارے نفع پر ترجیح رکھتا ہے۔ مذکورہ واقعہ کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ حضرت محمد بن ترین مداحِ رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق مشہور ہے کہ انہیں جاگتے میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی آمنے سامنے زیارت ہوتی تھی۔ جب وہ صبح کے وقت روضہ اطہر پر حاضر ہوئے تو حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے اپنی قبر اطہر میں سے کلام فرمایا۔ یہ بزرگ اپنے اسی مقام پر فائز رہے حتی کہ ایک شخص نے ان سے درخواست کی کہ شہر کے حاکم کے پاس اس کی سفارش کریں آپ علیہ الرحمۃ حاکم کے پاس پہنچے اور سفارش کی اس نے آپ علیہ الرحمۃ کو اپنی مسند پر بٹھایا۔ تب سے آپ علیہ الرحمۃ کی زیارت کا سلسلہ ختم ہوگیا پھر یہ ہمیشہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں زیارت کی تمنا پیش کرتے رہے۔ مگر زیارت نہ ہوئی ایک مرتبہ ایک شعر عرض کیا تو دور سے زیارت ہوئی حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ظالموں کی مسند پر بیٹھنے کے ساتھ میری زیارت چاہتا ہے اس کا کوئی راستہ نہیں۔ حضرت علی خواص فرماتے ہیں کہ پھر ہمیں ان بزر گ کے متعلق خبر نہ ملی کہ ان کو سرکارصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی