وہی حضرت علی خواص سے یہ ارشاد فرماتے ہیں۔ '' ہم نے جو ائمہ مجتہدین کا کشف اور ان کا روحانی حیثیت سے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونا ذکر کیا ہے۔ جسے اس بارے میں یقین نہیں آتا اور وہ تردد کا شکار ہے ہم اس سے کہتے ہیں کہ یہ بھی اولیاء کرام کی کرامات میں سے ہے۔ اگر ائمہ مجتہدین ہی اولیاء نہیں تو کائنات میں کوئی بھی ولی نہیں۔ بکثرت ایسے اولیاء جو مقام ومرتبہ میں ائمہ مجتہدین سے یقینا کم ہیں ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہیں کثرت سے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حضوری نصیب ہوتی ہے۔ اور اس بات پر ان کے ہم زمانہ بزرگ ان کی تصدیق فرماتے ہیں۔ وہ اولیاء کرام جن کو حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کا شرف اور صحبت و زیارت نصیب ہوئی ہے۔ جن کی کافی تفصیل طبقات الاولیاء میں مذکور ہے ان میں شیخ ابراہیم فناوی' شیخ ابو مدین مغربی' سیدی ابو السعود بن ابو العشائر' سیدی ابراہیم وسوقی' شیخ ابو الحسن شاذلی' شیخ ابو العباس مریسی' سیدی ابراہیم بتولی' علامہ جلال الدین سیوطی' شیخ احمد زوادی بچری وغیرھم رضی اﷲ تعالیٰ عنہم۔
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ کا ایک خط آپ کے ایک رفیق شیخ عبدالقادر شاذلی کے پاس حضرت سیدی علی خواص علیہ الرحمۃنے دیکھا۔ جو اس شخص کے جواب میں لکھا تھا جس نے بادشاہ کے پاس آپ کی سفارش طلب کرنے کو لکھا تھا۔ اس خط کے