مذاہب کے اصولوں کی بنیاد علم حقیقت پر رکھی ہے۔ جو شریعت کا اعلیٰ مرتبہ ہے اور ان کے مذاہب کی بنیاد شریعت کی سیدھی حدپر ہے۔ بلاشبہ وہ علمائے حقیقت بھی تھے بخلاف اس کے جو بعض مقلدین نے گمان کرلیا کہ وہ علمائے حقیقت نہیں محض علمائے شریعت ہیں۔'' پھر امام شعرانی نے قسم کھا کر ارشاد فرمایا '' جو شخص ہم سے اس معاملہ میں جھگڑا کرے وہ ائمہ کرام کے مرتبے سے جاہل ہے۔ اﷲ کی قسم قطعا یقینا وہ علمائے کرام شریعت و طریقت کے جامع تھے''۔ پھر امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدی علی خواص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا اپنے کانوں سے سنا ہوا وہ ارشاد نقل کرتے ہیں۔ جس سے مجتہدین کرام کا بلند مرتبہ اور حقیقت و شریعت دونوں میں ان کا اولیاء کا امام ہونا دوپہر کے سورج اور چودھویں رات کے چاند کی طرح واضح و روشن ہوجائے فرماتے ہیں۔ '' میں نے حضرت سیدی علی خواص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا ائمہ کرام نے اپنے مذاہب کی تائید شریعت کے ساتھ حقیقت کے اصول پر چلنے سے فرمائی تاکہ اپنے پیروکاروں پر ظاہر کردیں کہ وہ دونوں طریقوں کے علماء ہیں اور ارشاد فرماتے تھے۔ کہ ائمہ اربعہ میں سے کسی کے اقوال میں سے ایک قول کا بھی دائرہ شریعت سے خارج ہوجانا اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیھم کے نزدیک قطعا ناممکن ہے۔ کیونکہ وہ مجتہدین کتاب وسنت اور اقوال صحابہ کی مراد پر مطلع ہیں اور اس لئے کہ وہ صحیح کشف رکھتے ہیں اور اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک کی روح حضور پرنور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح مبارک کے ساتھ جمع ہوتی ہے اور جس مسئلہ میں دلائل کی وجہ سے توقف ہو تو وہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے پو چھ لیتے ہیں کہ یہ حضور کا ارشاد ہے یا نہیں وہ اہل کشف کی شرائط کے مطابق حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے جاگتے ہیں اور حضور اقدس صلی