Brailvi Books

شریعت و طریقت
50 - 57
بارہا پیش کئے ہیں ۔ مثلاً حضرت سید علی مرصفی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا ایک قول ہے جسے بعض لوگ مجتہدین کرام کے خلاف پیش کرتے ہیں ہم اسے اس کے رد سمیت ذکر کرتے ہیں چنانچہ امام عبد الوہاب شعرانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔ '' میں نے حضرت علی مرصفی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بربارہا فرماتے سنا کہ مجتہدین کرام رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے وارث تھے۔ علم حقیقت اور علم شریعت دونوں میں بخلاف بعض صوفی ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کے کہ انہوں نے کہا۔ مجتہدین صرف علم شریعت میں نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے وارث تھے حتی کہ بعض لوگوں نے یہ کہہ دیا وہ تمام علم جسے مجتہدین جانتے ہیں طریقت میں کامل آدمی کے علم کا چوتھائی حصہ ہے۔ کیونکہ ہمارے نزدیک کوئی مرد اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک کہ اپنے مقام ولایت میں قولِ الٰہی
الاول والآخر و الظاہر والباطن
کی چاروں بارگاہوں کے علوم کا محقق نہ ہوجائے اور مجتہدین کو صرف اﷲ تعالیٰ کے اسم مبارک '' الظاہر'' کی بارگاہ کے علوم کی تحقیق ہے اور بس نہ انہیں حضرت ازل کا علم ہے نہ حضرت ابد کا اور نہ علم حقیقت کا ہے اور میں کہتا ہوں کہ یہ کلام جو مجتہدین کے بارے میں ہے کسی جاہل کا ہے۔ جو ائمہ کرام کے احوال نہیں جانتا وہ جو زمین کے اوتاد اور دین کی بنیاد ہیں حقیقت میں جلیل القدر ولی اور کشف ومعرفت والوں میں انتہائی عظیم مرتبہ رکھنے والے ہیں۔ وہ جس طرح ظاہر کے امام ہیں قطعا یقینا وہ باطن کے امام بھی ہیں''۔
(میزان الشریعۃ الکبریٰ ص ۴۹ مطبوعہ مصر)
امام عبد الوہاب شعرانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی کتاب میزان الشریعۃ الکبریٰ میں اس قسم کے بیانات کے دریا لہرارہے ہیں اور صفحات کے صفحات بھرے ہوئے ہیں ان میں سے چند ایک عبارتیں ہم نقل کرتے ہیں۔ فرمایا '' یہ اس لئے کہ حقیقت میں انہوں نے یعنی مجتہدین نے اپنے
Flag Counter