| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
دُعائیہ شعر کا مفہوم:
یا اللہ عَزَّوَجَلَّ حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صدقے میرے غموں کی آگ بجھادے اورحضرتِ سیِّدُنا نظام الدین عرف شاہ بھکاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے طفیل مجھے رَحمتوں کی بھیک دے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
وضاحت :
'' ابراہیم''کے ساتھ'' نارِغم'' کا تذکرہ گویا اس طرف اشارہ کررہا ہے کہ یااللہ عَزّوَجَلَّ ! تیری اس رَحمت کا صدقہ جو تونے حضرت ابراہیم خلیل اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَلاۃُ وَالسَّلاَم پر فرمائی اور نمرود کی لگائی ہوئی آگ کو گل گلزار بنادیا ہمارے غموں کی آگ بھی گلزار بنادے ۔صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تذکرہ:
اس شعر میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے چھبیسویں اور ستائیسویں شیخِ طریقت یعنی حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اورحضرتِ سیِّدُنا نظام الدین عرف شاہ بھکاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان دونوں بُزُرگوں رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں:(26)حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابراہیم ایرجی علیہ رحمۃ اللہ الھادی
حضرتِ سیِّدابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادتِ باسعادت ''ایرج'' کے مَقام میں ہوئی ،اسی نسبت سے آپ کو ایرجی کہا جاتا ہے ۔آپ کے