| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
عذاب قبر سے محفوظ ہوگیا ہوں اور جو لباس تودیکھ رہا ہے وہ حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی کی برکت سے مجھے پہنچایا گیا ہے پس اے میرے بیٹے! تم ان کی بارگاہ میں حاضری کولازم کرلو۔'' پھر حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی نے فرمایا: ''میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ'' میں اس مسلمان کے عذاب میں تخفیف کروں گا جس کاگزر(تمہارے )مدرسۃالمسلمین پرہو گا۔'' (بہجۃالاسرار،ذکراصحابہ وبشراہم،ص۱۹۴) رہائی مل گئی اس کوعذابِ قبرومحشرسے یہاں پرمل گیاجس کووسیلہ غوث اعظم کا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
عصا مبارک چراغ کی طرح روشن ہو گیا
حضرت عبدالملک ذیال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ''میں ایک رات حضور پرُنورغوث پاک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے مدرسے میں کھڑا تھا آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اندر سے ایک عصا دست اقدس میں لئے ہوئے تشریف فرما ہوئے میرے دل میں خیال آیا کہ ''کاش حضور اپنے اس عصا سے کوئی کرامت دکھلائیں۔'' ادھر میرے دل میں یہ خیال گزرا اور ادھر حضور نے عصا کو زمین پر گاڑ دیا تو وہ عصا مثل چراغ کے روشن ہوگیا اور بہت دیر تک روشن رہا پھر حضور پرُنور نے اسے اکھیڑ لیا تو وہ عصا جیساتھا ویسا ہی ہوگیا، اس کے بعد حضور نے فرمایا:'' بس اے ذیال!تم یہی چاہتے تھے۔''( بہجۃالاسرار،ذکرفصول من کلامہ۔۔۔۔۔۔الخ،ص۱۵۰)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد