نامور اور معروف بزرگ ہیں۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے علومِ قرآن کو روایت و درایت اور تجوید و قرأت کے اسرار و رموز کے ساتھ حاصل کیا اورزمانے کے بڑے محدثین اور اہل فضل و کمال و مستند علماء کرام سے سماع حدیث فرماکر علوم کی اس شاندار طریقے سے تحصیل و تکمیل فرمائی کہ اپنے ہم عصر علماء میں نمایاں مقام پالیا اور ان کے بھی مرجع بن گئے ۔
چھٹی صدی ہجری میں نیکی کی دعوت کی جو دُھومیں غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مچائیں اُس کی نظیر نہیں ملتی۔ امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نے تصوُّف کواگر ایک فن کا دَرَجہ دیا تو غوثُ الثقلین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عملی طور پر اس میں جان ڈال دی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بیانات انتہائی پُر تاثیر ہوتے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جس وقت بیان کی محافل شروع کیں تو لوگ آپ کی طرف اُمنڈ پڑے۔اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے دلوں کو آپ کی عظمت وہیبت کے سامنے سرنگوں کردیا اور اس وقت کے اولیاء کرام کو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سایہ قدم اور دائرہ حکم میں دے دیا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خود فرماتے ہیں: