Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
84 - 216
تُوحسینی حَسَنی کیوں نہ محی الدین ہو

اے خضر مجمع بحریں ہے دیار تیرا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
18پارے زبانی سُنا دئيے
    جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عمر 4سال کی ہوئی تو آپ کے والد ماجد سیدنا ابوصالح رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو مکتب میں داخل کرنے کی عرض سے لے گئے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ استاذ کے سامنے آپ دوزانو ہو کر بیٹھ گئے ۔استاذنے کہا پڑھو : بسم اللہ الرحمن الرحیم !تو آپ نے بسم اللہ شریف پڑھنے کے ساتھ ساتھ الۤم سے لیکر مکمل 18 پارے استاذ کو زبانی سنا دئيے۔ استاذ نے حیرت سے دریافت کیا کہ:'' یہ کب پڑھا اور کیسے یاد کیا ؟''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا:'' میری والدہ ماجدہ 18 سپارے کی حافظہ ہیں ،جب میں شکم مادر میں تھاتووہ اکثر ان کو پڑھا کرتی تھیں لہٰذا یہ سترہ سپارے سنتے سنتے یاد ہوگئے۔''
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
    ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کیلئے ۴۸۸؁ھ میں بغداد تشریف لائے اور اپنے زمانہ کے معروف اساتذہ اور آئمہ فن سے اکتسابِ فیض کیا ۔ آپ کے اَساتذہ میں ابوالوفاعلی بن عقیل حنبلی، ابو زکریا یحیٰی بن علی تبریزی، ابوالغالب محمد بن حسن باقلائی اور ابو سعید محمد بن عبدالکریم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم جیسے نہایت
Flag Counter