Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
65 - 216
کرتے اور سلام عرض کرتے پھر پردہ ہٹاتے تاکہ آپ اندر تشریف لا سکیں ۔ جب ان لوگوں کو آپ سے نفرت ہو گئی اور اس فیصلہ کے بارے میں پریشان ہو گئے تو آپس میں انہوں نے مشورہ کیاکہ اب جب حضرت سیِّدُنا علی رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ '' مامون '' سے ملنے آئیں ہم ان سے منہ موڑ لیں گے اور دروازوں کے پردے نہیں اٹھائیں گے ۔ اس پر سب متفق ہو گئے ابھی وہ یہ مشورہ کر کے بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ تشریف لائے اور اپنی عادت کے مطابق ملاقات کرنے اندر آنے لگے تو ان لوگوں کو اپنے مشورہ پر عمل کرنے کی ہمت نہ پڑی چنانچہ سب کھڑے ہوئے استقبال کیا اور دروازوں کے پردے بھی پہلے کی طرح اٹھائے جب آپ اندر تشریف لے گئے تووہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے تم نے اپنے منصوبہ اور مشورہ پر عمل نہیں کیا ۔ پھر یہ طے پایا کہ اب جو ہو گیا سو ہو گیا آئندہ اگر آئے تو پھر لازماً ہم اپنے مشورہ پر عمل کریں گے ۔ جب دوسرے دن آپ حسبِ عادت تشریف لائے اب کی باری یہ کھڑے تو ہو گئے سلام بھی کیا لیکن پردے نہ اٹھائے ، فوراً تیز ہوا چلی اس نے پردوں کو اٹھا دیا اور آپ اندر تشریف لے گئے پھر باہر نکلتے وقت بھی تیز ہوا نے آپ کی خاطر پردے اٹھا دیئے ۔ اب یہ سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور کہنے لگے '' اس شخص کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا مرتبہ ہے اور اس کی ان پر بڑی مہربانی ہے،دیکھو کہ ہوا کیسے آئی اور ان کے اندر آتے وقت اس نے کس طرح پردوں کو اٹھا دیا لہٰذا چھوڑو اپنے مشورہ کو اور دوبارہ اپنی اپنی ڈیوٹی دو ۔ ''(جامع کرامات اولیاء،ج۲،ص۳۱۲)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter