| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
دن اہتمام کے ساتھ روزے رکھا کرتے ۔اس قدر عاجزی پسند تھے کہ غلاموں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی انفرادی کوشش نے بے شمار کفارکودامنِ اسلام سے وابستہ کیا ۔مشہور بزرگ حضرت سیدنا معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہہی کی دعوتِ اسلام پر مسلمان ہوئے اور آسمان ولایت کے روشن ستارے بن کر چمکے ۔ امام علی رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو انگوروں میں زہر ملا کر دیا گیا جس سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۲۱ رمضان المبارک ۲۰۳ھ 55برس کی عمر میں شہادت سے سرفراز ہوئے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار شریف مشہد مقدس (ایران) میں ہے ۔ اللہ عَزّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تیز ہوا نے تعظیم پیش کی
جب مامون نے اپنے بعد کا ولئ عہد امام علی رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر کیا تو مامون کے دائیں بائیں بیٹھنے والوں میں کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں یہ نامزدگی اچھی نہ لگی اور انہیں خطرہ محسوس ہوا کہ خلافت بنو عباس سے ختم ہوجائے گی اور بنو فاطمہ میں چلی جائے گی ۔ اس سوچ کی وجہ سے ان میں حضرت سیِّدُنا علی رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نفرت پیدا ہو گئی ۔ حضرت سیِّدُنا علی رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادتِ کریمہ تھی کہ آپ جب مامون کے گھر ملاقات کے لئے تشریف لاتے تو وہ نوکر چاکر جو دربان ہوتے یا پردہ ہٹانے کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوتی یہ سب اور دوسرے خادمین آپ کا استقبال