| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
میں ذرہ برابر چوکتے نہ تھے اور کسی بھی تخت وتاج والے کا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان بلند ی کے آگے رعب و دبدبہ نہ چلتا ۔ ایک مرتبہ آپ خلیفہ ہارون رشید کی مجلس میں تشریف فرماتھے کہ معجزہ عصائے موسیٰ علیہ السلام کا ذکر چھڑ گیاتو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ'' اگر میں اس شیر کی تصویر جو قالین پر بنی ہے ،اس کو کہوں کہ ابھی شیرِ اصلی ہو جا!!! یہ جملہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان مبارک سے نکلنا تھا کہ فوراً وہ تصویر اصلی شیر کا روپ دھار گئی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شیر کو حکم دیا کہ ٹھہر جا میں نے ابھی تم کو حکم نہیں دیا ہے ۔یہ کہتے ہی شیر دوبارہ تصویر بن گیا۔ اللہ عَزّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(8)حضرتِ سیِّدُنا امام علی رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرتِ سیِّدُناامام علی رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادتِ مبارکہ ۱۵۳ھ میں مدینہ منوّرہ میں ہوئی ۔ آپ کا نامِ مبارک علی اور کنیت سامی ، ابوالحسن اور ابومحمد اور القابات صابر،ولی ،ذکی، ضامن ،مرتضیٰ اورسب سے مشہور لقب رضا ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحضرتِسیِّدُناامام موسیٰ کاظمرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نورُ العین ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت ہی ذہین وفطین اور اعلیٰ درجے کے عالم وفاضل تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو رب کریم نے فہمِ قراٰن کی عظیم دولت سے ایسا نوازاتھا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثرسوالات کے جوابات آیاتِ قراٰنی سے دیا کرتے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہر ماہ تین