| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
وجہ ہے کہ اہلِ عراق آپ کو بابُ الحوائج (یعنی حاجتیں پوری ہونے کا دروازہ) کہتے تھے ۔ اپنے زمانے میں حنابلہ (یعنی فقہ حنبلی کے پیروکاروں)کے شیخ امام خلّال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: مجھے جب بھی کوئی معاملہ درپیش ہوتاہے ،میں امام موسیٰ کاظم بن جعفر صادق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہماکے مزار پر حاضر ہوکر آپ کا وسیلہ پیش کرتاہوں ۔ اللہ تعالیٰ میری مشکل کو آسان کر کے میری مرادمجھے عطا فرمادیتاہے ۔
(تاریخ بغداد۱باب ماذکر فی مقابر بغداد الخصوصۃ بالعلماء والزھاد، ج ۱ ص ۱۳۳)
55برس کی عمر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بادشاہِ وقت کے حکم پر کھجور میں زہر ملا کر دیا گیا ۔کھجور کھاتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ دشمنوں نے مجھے زہر دیا ہے تین دن کے بعد میری وفات ہوگی ۔ جیسا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔یوں ۲۵ صفر المظفر ۱۸۳ھ کوآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مرتبہ ہادت کو پہنچے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِ پُراَنوار بغدادِ معلی میں کاظمین شریف کے مقام پر واقع ہے ۔ اللہ عَزّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شیرکی تصویر کو زندہ فرما دیا
حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کشف وکرامات کے میدان میں بھی یکتائے روزگار تھے اورحقانیت کے علمبردار تھے حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہنے