Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
61 - 216
بتایا کہ جس وقت امام جعفر صادق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)میرے پاس تشریف لائے تو ان کے ساتھ اتنا بڑا اژدھا تھا جو اپنے جبڑوں کے درمیان پورے چبوترے کو گھیرے میں لے سکتا تھا اور وہ اپنی زبان میں مجھ سے کہہ رہا تھا ''اگر تونے ذرا سی گستاخی کی تو تجھ کو چبوترے سمیت نگل جاؤں گا ۔''چنانچہ اس کی دہشت مجھ پرطاری ہو گئی اور میں نے آپ سے معافی طلب کر لی۔(تذکرۃ الاو لیاء مترجم،ص۸)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (7)حضرتِ سیِّدُنا امام موسٰی کاظِم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
    حضرتِسیِّدُناامام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مقامِ ابوا(جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع ہے) ۷صفر المظفر ۱۲۸؁ھ کو پیدا ہوئے۔ آپ کا نامِ پاک موسیٰ اور کنیت سامی ،ابوالحسن اور ابوابراہیم اور القابات صابر، صالح ،امین جبکہ مشہور لقب کاظم ہے۔ حضرتِ سیِّدُناامام جعفر صادِق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے ہیں ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی راتیں اپنے رب کی بارگاہ میں سجدوں اور دن روزوں میں گزرتے ۔ حلم اور بردباری کا پیکر ہونے کی وجہ سے آپ کا لقب کاظم (یعنی غصہ کو پی جانے والا )ہوا۔جُودوسخا کا یہ عالم تھا کہ فقراءِ مدینہ کو تلاش کرتے اور ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق رقم رات کے وقت اِس طرح پہنچاتے کہ انہیں خبر تک نہ ہوتی کہ یہ رقم کون دے کر گیا ہے ۔ مستجاب الدعوات تو ایسے تھے کہ جو لوگ آپ کے وسیلے سے دُعا کرتے یا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے دُعا کرواتے وہ اپنے مقصود کو پہنچتے اور ان کی حاجتیں پوری ہوجاتیں ۔یہی
Flag Counter