Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
60 - 216
خلیفہ پر دبدبہ طاری ہوگیا
    خلیفہ منصور نے ایک شب اپنے بیٹوں کو حکم دیاکہ امام ابو جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میرے روبرو پیش کرو،تاکہ میں ان کو قتل کر دوں۔ وزیرنے منع کیاکہ دنیا کوخیر آباد کہہ کر جوشخص عزلت نشین ہو گیا ہو اس کو قتل کرنا قرین مصلحت نہیں۔ لیکن خلیفہ نے غضب ناک ہوکر کہا کہ میرے حکم کی تعمیل کرنا تم پر ضروری ہے۔ چنانچہ مجبوراً! جب وزیرحضرت سیِّدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لینے چلا گیا۔تومنصور نے غلا موں کو ہدا یت کردی کہ جب میں اپنے سر سے تاج اتاروں توتم فوراً امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کر دینا لیکن جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشر یف لائے توآپ کی عظمت و جلال نے خلیفہ کو اس قدر متأثِّر کیا کہ وہ بے قرار ہوکر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے استقبال کیلئے کھڑا ہو گیا اور نہ صرف آپ کوصدر مقام پر بٹھایا بلکہ خود بھی مؤدّ بانہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیٹھ کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حاجات اور ضروریات کے متعلق دریافت کرنے لگا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میری سب سے اہم حاجت وضرورت یہ ہے کہ آئندہ پھر کبھی مجھے دربار میں طلب نہ کیا جائے تاکہ میری عبادا ت وریاضات میں خلل واقع نہ ہو۔چنانچہ منصور نے وعدہ کرکے عزت واحترام کے ساتھ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ رخصت کیا لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دبدبے کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ لرزہ براندام ہوکر مکمل تین شب وروز بے ہوش رہا ۔بہر حال خلیفہ کی یہ حالت دیکھ کر وزیر اور غلام حیران ہو گئے اور جب خلیفہ سے اس کا حال دریافت کیا تو اس نے
Flag Counter