آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عالی نسب ہونے کے باوجود عاجزی کے پیکر تھے۔ ایک مرتبہ حضرت سیدنا داؤدطائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی،''آپ چونکہ اہلِ بیت میں سے ہیں ،اس لئے مجھے کوئی نصیحت فرمائیں۔'' لیکن وہ خاموش رہے ۔ جب آپ نے دوبارہ عرض کی کہ ،''اہلِ بیت ہونے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو فضیلت بخشی ہے ، اس لحاظ سے نصیحت کرنا آپ کے لئے ضروری ہے ۔'' یہ سن کر امام جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، ''مجھے تو خود یہ خوف لاحق ہے کہ کہیں قیامت کے دن میرے جد ِ اعلیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر یہ نہ پوچھ لیں کہ تو نے خود میری پیروی کیوں نہیں کی ؟ کیونکہ نجات کا تعلق نسب سے نہیں اعمالِ صالحہ پر موقوف ہے ۔ '' یہ سن کر حضرت داؤو طائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو رونا آگیا کہ وہ ہستی جن کے جد امجدسرورِ عالم نورِ مجسّم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ہیں ، جب ان کے خوف ِ خدا عَزَّوَجَلَّ کا یہ عالم ہے تو میں کس گنتی میں آتا ہوں ؟'' (تذکرۃ الاولیاء )