| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال مشہور قول کے مطابق ۷ ذوالحجۃ الحرام ۱۱۴ھ پیرشریف کو ہوا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے حضرتِ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وصیت کی تھی کہ مجھے اسی کپڑے کا کفن دیا جائے جس میں میں نماز پڑھتا ہوں ۔ چنانچہ انہوں نے غسل دینے کے بعد حسبِ وصیت اسی کپڑے کا کفن دیا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزارِ پُرانوار جنت البقیع میں ہے ۔ اللہ عَزّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غضب ناک شیر
ایک مرتبہ بادشاہ وقت نے حضرتِ سیِّدُناامام ابوجعفر محمد باقررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کرنے کے ارادہ سے ایک شخص کی معرفت بلوایا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شخص کے ہمراہ بادشاہ کے پاس تشریف لے گئے۔جب بادشاہ وقت کے قریب پہنچے تو وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے معافی طلب کرنے لگا اور اظہار معذرت کرتے ہوئے تحائف پیش کئے اور بڑی ہی عزت واحترام کے ساتھ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو الوداع کیا۔لوگوں نے بادشاہ وقت سے دریافت کیا کہ تُونے انہیں قتل کی غرض سے بلوایا تھا لیکن ہم نے تو کچھ اور ہی دیکھا ، آخر اسکی کیا وجہ ہے؟''بادشاہ نے جواب دیا کہ جب حضرت امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے قریب تشریف لائے تو میں نے دو بڑے ہی