| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
قراٰن پاک و تاریخ وسیرت اور فنونِ ادب وغیرہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ظاہر ہوئے ، اس کی مثال نہیں ملتی ۔ حضرتِ امام قاضی ابویوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ میں نے سیِّدُنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا :'' آپ نے حضرتِ امام باقررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی ہے ؟''فرمایا:''ہاں میں نے ملاقات کی ہے اور ان سے ایک مسئلہ بھی دریافت کیا تھا جس کا اتنا شاندار جواب عطا فرمایا کہ اس سے شاندار جواب کسی سے نہ سُنا۔
خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سینہ خشیتِ الہٰی کا خزینہ تھا ۔ آپ کے غلام افلح کا بیان ہے : حضرت امام باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ حج کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور میں آپ کے ہمراہ تھا ۔ آپ جب مسجد حرام میں داخل ہوئے تو بیت اللہ شریف کو دیکھتے ہی اتنے زور سے روئے کہ چیخیں نکلنے لگیں ۔ میں نے کہا ''حضور! اس قدر زور سے نہ چیخیں کیونکہ تمام لوگوں کی نظریں آپ کی طرف مرکوز ہو گئیں ہیں ۔'' توآپ نے فرمایا : ''میں کیوں نہ رؤں ؟ شاید اللہ تعالیٰ میرے رونے کی وجہ سے مجھ پر رحمت کی نظر فرمائے اور میں کل قیامت کے دن اس کے نزدیک کامیاب ہو جاؤں۔ '' پھر آپ نے طواف کیا اور مقامِ ابراہیم پر نماز پڑھی اور جب سجدہ کر کے سر اٹھایا تو سجدہ کی جگہ آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھی ۔
(روض الریاحین، الفصل الثانی فی اثبات کرامات الاولیء، ص ۱۱۳)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد