Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
54 - 216
زندہ بچے تھے ۔ 58برس کی عمر میں ولید بن عبدالملک نے آپ کو زہر دیا جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ محرم الحرام ۹۴؁ھ میں شہادت کے منصب پر فائز ہوکر مدینہ شریف میں جنت البقیع میں آرام فرما ہوئے ۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اونٹنی سُدھر گئی
    ایک مرتبہ امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اونٹنی نے شوخی کرنا شروع کر دی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بٹھایا اور کوڑا دکھایا اور فرمایا : سیدھی ہو کر چلو ورنہ یہ دیکھ لو ! چنانچہ اس کے بعد اس نے شوخی چھوڑ دی۔ (جامع کرامات اولیاء ،ج۲،ص۳۱۱)

اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
--صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (5)حضرتِ سیِّدُنا امام محمد باقِررضی اللہ تعالیٰ عنہ
    حضرتِسیِّدُناامام محمد باقِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ واقعہ کربلا سے تین سال پہلے ۵۷؁ھ میں مدینہ منوّرہ میں پیدا ہوئے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام محمد ، کنیت ابوجعفر ومبارک اور لقب سامی ،باقر ،شاکر اور ہادی تھا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ سیِّدُناامام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند ہیں ۔آپ کی والدہ محترمہ امّ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ امام باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیرت وصورت میں اپنے آباء کی طرح تھے ۔جس قدر علمِ دینِ مُتِین ،علمِ سنّت ،علمِ
Flag Counter