| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کا احرام باندھا تو تلبیہ (یعنی لبیک) نہیں پڑھی ۔ لوگوں نے عرض کی ،''حضور! آپ لبیک کیوں نہیں پڑھتے ؟'' آبدیدہ ہو کر ارشاد فرمایا،''مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں لبیک کہوں اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ''لاَ لَبَّیْکْ''کی آواز نہ آجائے ، یعنی میں تو یہ کہوں کہ'' اے میرے مالک ! میں بار بار تیرے دربار میں حاضر ہوں ۔'' اور ادھر سے یہ آواز نہ آجائے کہ'' نہیں نہیں ! تیری حاضری قبول نہیں ۔''لوگوں نے کہا ، ''حضور! پھر لبیک کہے بغیر آپ کا احرام کیسے ہوگا؟'' یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلند آواز سے
لَبَّیْکْ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکْ لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکْ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لاَشَرِیْکَ لَکْ
پڑھا لیکن ایک دم خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے لرز کر اونٹ کی پشت سے زمین پر گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آتے تو ''لبیک'' پڑھتے اور پھر بے ہوش ہوجاتے ، اسی حالت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج ادا فرمایا۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۶۴ )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میدانِ کربلا کی طرف جانے والے حسینی قافلے کے شرکاء میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے مگر جب ۱۰ محرم الحرام کوبزمِ شہادت سجی تو آپ شدید بیمار تھے ۔ چُنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حسینی قافلے کے واحد مرد تھے جو اس معرکہ حق وباطل کے بعد