Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
50 - 216
حضرتِ سیِّدنا ابنِ مُطیع علیہ رحمۃ اللہ البدیع سے ملاقات ہوئی ۔ اُنہوں نے عرض کی ، میرے کُنویں میں پانی بَہُت ہی کم ہے، برائے کرم ! دُعائے بَرَکت سے نواز دیجئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس کُنویں کا پانی طلب فرمایا۔ جب پانی کا ڈول حاضِر کیا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منہ لگا کر اس میں سے پانی نوش کیا اور کُلی کی ۔پھر ڈول کو واپس کنویں میں ڈال دیاتوکنویں کاپانی کافی بڑھ بھی گیا اور پہلے سے زیادہ میٹھا اور لذیذ بھی ہو گیا۔
 (الطبقاتُ الکُبریٰ ج۵ ص ۱۱۰دارالکتب العلمیۃ بیروت)
باغ جنّت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلبیت

تم کو مُژدہ نارکا اے دشمنانِ اہلبیت
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (3) سَیِّدِسجاد کے صدقے میں ساجد رکھ مجھے (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )

عِلْمِ حَقْ دے باقِر علمِ ہُد یٰ کے واسِطے (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )
مشکل الفاظ کے معانی:سجاد:کثرت سے سجدے کرنے والا ساجد:سجدہ کرنے والا 

ہدی:ہدایت باقرِ علمِ ہُدٰی:علمِ ہدایت کے ماہِر عالم
دُعائیہ شعر کا مفہوم:
    یا اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے سَیِّدِسجاد یعنی حضرتِ سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا واسطہ مجھے سجدہ کرنے والا یعنی نَمازی بنااورباقرِ علمِ ہُدٰی یعنی
Flag Counter