عنہ کو یہاں تک باتوں میں لے کر اطمینان دلایا کہ انہوں نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تشریف لانے کی نسبت لکھا ۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۸ ذوالحجۃ الحرام ۶۰ ھ کو موسمِ حج کی رونقیں چھوڑ کر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے یہاں تک کہ ۲محرم الحرام ۶۱ھ کو میدانِ کربلا میں قیام فرمایا ۔محرم کی ساتویں تاریخ کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت شرکائے قافلہ پر نہرِ فرات کا پانی بند کردیا گیا۔ ۱۰ محرم الحرام ۶۱ھ کو یزیدی لشکر کی شقاوت اپنی انتہا کوپہنچی اور آپ کے جانثاران جن میں بھتیجے بھی تھے اور بیٹے بھی ،میدانِ جنگ میں دادِ شجاعت دینے کے بعد ایک ایک کرکے شہید ہوگئے ۔سوائے حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے (جو بیمار تھے )کوئی مرد زندہ نہ بچاتوآخر میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تن تنہا ہزاروں یزیدیوں کے مقابلے پر تشریف لائے اوربے شُمار یزیدیوں کو اپنے ہاتھ سے جہنم واصل کرنے کے بعد شجرِ اسلام کی آبیاری کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی پیش کردیا اور بارگاہِ خداوندی میں مرتبہ شہادت سے سرفراز ہوئے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزارِ پُرانوار کربلائے معلی میں زیارت گاہِ خلائق ہے ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ ان کے صد قے ہماری مغفِرت فرمائے