Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
49 - 216
عنہ کو یہاں تک باتوں میں لے کر اطمینان دلایا کہ انہوں نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تشریف لانے کی نسبت لکھا ۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۸ ذوالحجۃ الحرام ۶۰ ؁ھ کو موسمِ حج کی رونقیں چھوڑ کر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے یہاں تک کہ ۲محرم الحرام ۶۱؁ھ کو میدانِ کربلا میں قیام فرمایا ۔محرم کی ساتویں تاریخ کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت شرکائے قافلہ پر نہرِ فرات کا پانی بند کردیا گیا۔ ۱۰ محرم الحرام ۶۱ھ کو یزیدی لشکر کی شقاوت اپنی انتہا کوپہنچی اور آپ کے جانثاران جن میں بھتیجے بھی تھے اور بیٹے بھی ،میدانِ جنگ میں دادِ شجاعت دینے کے بعد ایک ایک کرکے شہید ہوگئے ۔سوائے حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے (جو بیمار تھے )کوئی مرد زندہ نہ بچاتوآخر میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تن تنہا ہزاروں یزیدیوں کے مقابلے پر تشریف لائے اوربے شُمار یزیدیوں کو اپنے ہاتھ سے جہنم واصل کرنے کے بعد شجرِ اسلام کی آبیاری کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی پیش کردیا اور بارگاہِ خداوندی میں مرتبہ شہادت سے سرفراز ہوئے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزارِ پُرانوار کربلائے معلی میں زیارت گاہِ خلائق ہے ۔

اللہ عَزّوَجَلَّ ان کے صد قے ہماری مغفِرت فرمائے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کُنویں کا پانی اُبل پڑا
     حضرتِ سیِّدُناامامِ عالی مقام امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مدینہ منوَّرہ سے مکّہ مکرّمہ زادَھُمَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں
Flag Counter