صحابی رسول حضرتِ سیِّدُنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد ۶۰ھ میں یزید پلید تختِ سلطنت کو اپنے ناپاک قدموں سے روندتے ہوئے خُود ساختہ بادشاہ بن بیٹھا ۔اس نے تمام گورنروں کو اپنی بیعت کے لئے خطوط روانہ کئے اور عاملِ مدینہ ولید بن عقبہ کو لکھا کہ وہ حضرتِ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی بیعت لے ۔ ولید بن عقبہ نے رات کے اندھیرے میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فوری بیعت کا مطالبہ کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صاف انکار کردیا جس کی وجہ صاف ظاہر تھی کہ یزید ایک شرابی ،ظالم اور فاسق وفاجر شخص تھا ۔ماہِ شعبان ۶۰ ھ کی اِسی رات امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے نانا جان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ میں آخری سلام عرض کرنے کے بعد مع اہل وعیال مکۃ المکرمہ کی طرف روانہ ہوگئے ۔یہاں قیام کے دوران آپ کو اہلِ کوفہ کے کم وبیش 150خطوط موصول ہوئے جن میں آپ سے محبت اور وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے کوفہ تشریف لاکر انہیں یزید کے ظلم وستم سے نجات دلانے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت ہونے کی درخواستیں کی گئی تھیں ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے اپنے چچازاد بھائی حضرتِ سیِّدُنا مُسلِم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوحالات معلوم کرنے کے لئے کُوفہ روانہ کیا ۔حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ پہنچے ،ادھرکوفیوں نے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومدد دینے کا وعدہ کیا ،بلکہ18,000 ( اٹھارہ ہزار ) داخلِ بیعت بھی ہو گئے اورحضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ