غلام کو آزاد کر دیا
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت رحم دل ،سخی ،عبادت گزار ،تقویٰ شعار اور عفوودرگزر کا پیکر تھے ۔ایک دن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چند مہمانوں کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے ، غلام گرم گرم شوربے کا پیالہ دستر خوان پر لاتے ہوئے رُعب سے کانپا جس کی وجہ سے شوربے کا پیالہ گر کر ٹوٹ گیا اور شوربہ آپ کے رخسار مبارک پر پڑ گیا۔ آپ نے اس کی طرف نگاہ اٹھائی تو اس نے نہایت عجز وادب سے عرض کیا :
''وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ''
(یعنی غصہ پینے والے(اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ہیں) ) آپ نے فرمایا:
''کَظَمْتُ غَیْظِی
یعنی میں نے اپنا غصہ پی لیا ۔ ''غلام نے پھر کہا:
''وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ''
(یعنی لوگوں سے درگزر کرنے والے(اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ہیں))'' آپ نے فرمایا
''قَدْ عَفَوْتُ عَنْکَ
یعنی میں نے تم کو معاف کر دیا ۔'' غلام نے کہا:
''وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ''
(یعنی نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں ) ''آپ نے فرمايا :
''اَنْتَ حُرٌّ لِوَجْہِ اللہ
یعنی میں نے تجھے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے آزاد کر دیا ۔
( روح البیان ، ج۲ ، ص ۹۵،تحت الاٰیۃ۱۳۴ ،اٰل عمران)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد