Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
46 - 216
فرمایا : حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ(یعنی حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے بیٹے) کی طرح اس کا سرمنڈا کر بالوں کے برابر چاندی خیرات کرو۔''امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ اور مشہور القابات سیدالشہداء،شہیدِ کربلا،ذکی ،مبارک ، سبطِ رسول ، ریحانۃ الرّسول ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آغوشِ رسالت میں تربیت پائی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نانا جان حضور پُرنُور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم آپ سے بہت محبت فرماتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:''حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے ہے اورمیں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوں ،اللہ عَزّوَجَلَّ دوست رکھے اسے جوحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودوست رکھے، حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سبط ہے اسباط سے ۔''
(سنن الترمذی،کتاب المناقب،الحدیث۳۸۰۰، ج۵،ص۴۲۹)
جدائی گوارا نہ فرمائی
    ایک روزنبی کریم رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے داہنے زانوپرامامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوربائیں پر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صاحبزادے حضرتِ ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے تھے ،حضرت جبریل علیہ السلام نے حاضرہوکر عرض کی کہ''ان دونوں کوخدا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس نہ رکھے گاایک کواختیارفرمالیجئے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جدائی گوارا نہ فرمائی ،تین دن کے بعد حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا ۔اس واقعہ کے بعد جب حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوتے،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم بوسے لیتے اور
Flag Counter