Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
45 - 216
الْکَرِیْم رو رو کر مُناجات کررہے تھے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت کا دریا جوش میں آ گیا اور نِدا آئی ، اے علی !(کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم)ہم نے تمہاری شِکَستہ دِلی کے سَبَب اِسے بخش دیا۔چُنانچِہ اُس مُردے پر سے عذاب اُٹھا لیا گیا۔ 

                                                           (انیسُ الْواعِظين، ص۲۵)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(3)حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    نواسہ رسول ،جگرگوشہ بتول امامِ عالی مقام حضرتِ سیِّدُناحسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش ۵ شعبان المعظم ۴ھ میں مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ نانائے حَسَنَین،رحمتِ دارین، تاجدارِ حَرَمَین، سرورِ کَونَین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے داہنے کان میں اذان دی اور بائیں میں تکبیر پڑھی اور اپنے دہن مبارک سے تحنیک فرمائی اور دعاؤں سے نوازا۔ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور ایک بکری سے عقیقہ کیا اور آپ کی والدہ محترمہ خاتونِ جنت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے ارشاد
                            کیوں نہ مُشکِل کُشا کہوں تم کو!

                            تم نے بگڑی مِری بنائی ہے
     میٹھے ميٹھے اسلامی بھائیو! امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی عظمت وشان کے کیا کہنے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہلِ قُبُور سے گفتگو فرمالیا کرتے تھے ۔
Flag Counter