Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
44 - 216
ہی دیکھتے آپ کے اور اُس مُردے کے درمیان جتنے پردَے حائل تھے تمام اٹھادئیے گئے۔اب ایک قَبر کا بھیانک منظر آپ کے سامنے تھا۔کیا دیکھتے ہیں کہ مُردہ آگ کی لَپیٹ میں ہے اور رو رو کر آپ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے اِس طرح فریاد کررہا ہے:
''یَا عَلِیُّ! اَنَا غَرِیْقٌ فِی النَّارِ وَحَرِیْقٌ فِی النَّار
یعنی یاعلی ! کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْممیں آگ میں ڈوبا ہواہوں اور آگ میں جل رہا ہوں ۔''

     قَبْرکے دَہشت ناک منظر اور مُردے کی درد نا ک پُکارنے حیدرِ کرّارکَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو بے قرار کردیا۔ آپ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے رَحمت والے پروَردگارعَزَّوَجَلَّ کے دربار میں ہاتھ اُٹھادئیے اور نہایت ہی عاجِزی کے ساتھ اُس مَیِّت کی بخشِش کیلئے درخواست پیش کی ۔غیب سے آواز آئی ، '' اے علی(کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) !آپ اِس کی سِفارش نہ ہی فرمائیں کیوں کہ روزے رکھنے کے باوُجُودیہ شخص رَمَضانُ الْمُبارَک کی بے حُرمتی کرتا،رَمَضانُ الْمُبارَک میں بھی گُناہوں سے بازنہ آتا تھا۔دن کو روزے تَو رکھ لیتا مگر راتوں کو گُناہوں میں مُبْتَلارہتا تھا۔مَولائے کائِنا ت علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم یہ سُن کر اور بھی رنجیدہ ہوگئے اور سَجدے میں گِر کر رو رو کر عرض کرنے لگے ، یااللہ عَزَّوَجَلَّ !میری لاج تیرے ہاتھ میں ہے،اِس بندے نے بڑی اُمّید کے ساتھ مجھے پُکارا ہے ، میرے مالِک عَزَّوَجَلَّ ! تُو مجھے اِس کے آگے رُسوا نہ فرما، اس کی بے بَسی پر رَحم فرمادے اور اِس بیچارے کو بَخش دے ۔حضرت علی کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ
Flag Counter