(یا رسول اﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔
حضرت علامہ بوصیری علیہ رحمۃ القوی نے اپنے قصیدئہ بردہ میں فرمایا کہ ؎
مُنَزَّہٌ عَنْ شَرِیْکٍ فِیْ مَحَاسِنِہٖ
فَجَوْھَرُ الْحُسْنِ فِیْہِ غَیْرُ مُنْقَسِمٖ
یعنی حضرت محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں جو حسن کا جوہر ہے وہ قابل تقسیم ہی نہیں۔
حسّانُ الہنداعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے بھی اس مضمون کی عکاسی فرماتے ہوئے کتنے نفیس انداز میں فرمایا ہے کہ ؎
ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا تری خَلق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالق حسن و ادا کی قسم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد