سرزمین کو اپنے قدم چومنے کا شرف عطا فرمانے کے بعد کفارِمکّہ کے ظلم وستم سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے حکمِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ پرعمل کرتے ہوئے مدینہ شریف کی طرف ہجرت کی اور تقریباً 10 برس تک مدینہ طیّبہ کو اپنے نورِ جمال سے روشن کرنے کے بعد 63برس کی عمر میں ۱۲ ربیع النور ۱۱ھ میں وصالِ ظاہری فرما کر روضہ اقدس میں رونق افروز ہوئے ۔ ؎
تُوزندہ ہے واللہ تُوزندہ ہے واللہ
میری چشمِ عالم سے چھپ جانے والے
الحمد للہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے میٹھے میٹھے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حسنِ اخلاق کے تمام گوشوں کے جامع تھے یعنی حلم و عفو،رحم و کرم، عدل و انصاف، جود و سخا، ایثار و قربانی، مہمان نوازی، عدم تشدد، شجاعت، ایفائے عہد، حسن معاملہ،صبروقناعت،نرم گفتاری، خوشروئی،ملنساری،مساوات،غمخواری،سادگی وبے تکلفی،تواضع وانکساری، حیاداری کی اتنی بلند منزلوں پر فائز و سرفراز ہیں کہ حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ایک جملے میں اس کی عکاسی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ