اس شعر کے دونوں مصرعوں میں لفظ''واسِطے'' لایا گیا ہے لیکن دونوں جگہ اس کے معنیٰ الگ الگ ہيں۔چُنانچہ پہلے مصرعے میں اس کا معنی ہیں وسیلہ اور دوسرے مصرعے میں اِسے (یعنی لفظ ''واسِطے''کو)مُحاورۃً لایا گیا ہے ۔ جیسے کوئی منگتا کسی سخی داتا سے اس طرح کہتا ہے : ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کے واسِطے مجھ پر کرم کرو یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کے لیے میرا کام کردو ۔''اس کی مُراد یہ نہیں ہوتی ہے کہ (مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ) میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کو وسیلہ بنا کر تم سے سوال کرتا ہوں کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ وسیلہ بننے سے پاک ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ جلد 21صفحہ 304 پر لکھتے ہیں: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ وسیلہ و توسّل بننے سے پاک ہے ،اس سے اوپر کون ہے کہ یہ اس کی طرف وسیلہ ہوگا اور اس (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ) کے سوا حقیقی حاجت روا کون ہے کہ یہ بیچ میں واسطہ بنے گا ؟''(فتاو ٰی رضویہ ج ۲۱ ص ۳۰۴)