بابُ المدینہ(کراچی) کے علاقے ملیر ہالٹ کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے:۲۹ رمضان المبارک ۱۴۲۸ھ کی بات ہے ، عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی میں اجتماعی اعتکاف کے پر کیف مناظر تھے اورنمازِ فجر کے بعد معتکفین اسلامی بھائی شیخ طریقت امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے دیدار کی برکتیں لُوٹ رہے تھے ۔اعتکاف کے جدول کے مطابق شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ پڑھاجانے لگا تو میں پہلی صف میں آکر بیٹھ گیا ۔سب اسلامی بھائی مل کر بلند آواز سے شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ کے منظوم دعائیہ اشعار پڑھ رہے تھے جب سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ذکرمبارک آیا تو میں نے اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے۔یکایک مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی، سر کی آنکھیں کیا بند ہوئیں میرے دل کی آنکھیں کھل گئیں۔ میں نے دیکھا کہ امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے ہمراہ شجرہ شریف پڑھنے والے تمام اسلامی بھائی سنہری جالیوں کے روبرو حاضر ہیں۔ ہمارے مَدَنی آقا ،دوعالم کے داتا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم وہاں اپنے عشاق کو شربتِ دیدار پلا رہے ہیں۔حاضرین شجرہ عالیہ کے دُعائیہ اشعار پڑھ رہے تھے اور ہمارے میٹھے میٹھے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے دست پراَنوار بلند کئے ان دعائیہ اشعارپر اٰمین فرما رہے تھے ۔