Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
31 - 216
دُعا کا ایک ادب
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! دُعا کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ دعا فہمِ معنی کے ساتھ ہو کیونکہ لفظ بے معنی قالبِ بے جان (یعنی بے جان دل)ہے ۔چنانچہ آنے والے صفحات میں شجرہ عالیہ کے دعائیہ اشعار کے مطالب نثر میں آسان اندازسے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اس دوران اِن اُمور کی پابندی کی گئی ہے :

    (۱) تلفظ کی درستگی کے لئے بزرگانِ دین علیہم رحمۃاللہ المبین کے ناموں اور مشکل الفاظ پر اعراب لگائے گئے ہیں کیونکہ کم پڑھے لکھے اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں عقیدت میں شجرہ عالیہ تو پڑھتے ہیں مگر الفاظ کی ادائیگی میں عموماًغلطیاں کرتے ہیں اور بزرگوں کے نام بھی ٹھیک سے نہیں پڑھ پاتے ۔

    (۲) مشکل الفاظ کے معانی بیان کردئيے گئے ہیں ۔

    (۳) اہلِ ذوق کی تسکین کے لئے اس شعر کی ادبی خُوبی کو وضاحت کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے ۔ 

    (۴) شعر میں ذکر کردہ بزرگ کا مختصر تعارُف بھی پیش کیا گیا ہے ۔جس کے لئے زیادہ تراِن کتب ورسائل سے مدد لی گئی ہے؛(1)سیرتِ مصطفی   از علامہ عبدالمصطفٰی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ (2)صبح بہاراں (3)امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامات(4) مدینہ شریف سے بریلی تک(5) تذکرہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ (6)سیدی قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ علیہ، از: امیراہلسنّت مدظلہ العالی(7) تذکرۃ الاولیاء از: حضرت فرید الدین عطّار رحمۃ اللہ علیہ (8)روض الریاحین از: علامہ یافعی رحمۃ اللہ علیہ (9)تذکرہ مشائخ قادریہ از: مولانا عبدالمجتبٰی رضوی قدس سرہ (10)تعارفِ امیر اہلسنّت از: المدینۃ العلمیۃ
Flag Counter