| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
خاتَمُ النَّبِیِّین، صاحِبِ قراٰنِ مُبین،محبوبِ ربُّ العٰلَمِین، جنابِ صادِق وامین عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:''کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہیں تمہارے دشمن سے نَجات دے اور تمہارا رِزْق وسیع کر دے،رات دن اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگتے رہو کہ دُعا مومِن کا ہتھیار ہے۔''
(مسند ابی یعلیٰ،مسند جابر بن عبداللہ، الحدیث۱۸۰۶،ج۲،ص۲۰۱)
دُعا دافعِ بلا ہے
مکی مدنی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ مشکبارہے: ''بَلا اُترتی ہے پھر دُعا اُس سے جاملتی ہے ۔ پھر دونوں قیامت تک جھگڑا کرتے رہتے ہیں۔ یعنی دُعا اُس بلا کو اُترنے نہیں دیتی۔''
(ا لمستدرک ،کتاب الدُعا ء، باب الدُعا ء نفع... الخ، الحدیث ۱۸۵۶، ج ۲، ص ۱۶۲)
دُعا کے تین فائدے
اللہ کے محبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:دُعاء بندے کی ،تین باتوں سے خالی نہیں ہوتی (۱)یا اُس کا گُناہ بخشا جاتا ہے۔یا(۲)اُسے فائِدہ حاصِل ہوتا ہے ۔یا (۳) اُس کے لئے آخِرت میں بَھلائی جمع کی جاتی ہے کہ جب بندہ آخِرت میں اپنی دُعاؤں کا ثواب دیکھے گاجو دُنیا میں مُسْتَجاب (یعنی مَقبول ) نہ ہوئی تھیں تمنّا کرے