میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے مُلاحظہ فرمایا کہ شجرہ قادریہ رضویہ عطّاریہ پڑھنے اور اپنے پاس تحریری صورت میں رکھنے کی کیسی برکتیں ہیں ۔مگر یاد رکھئے کہ یہ سب حُسنِ اعتقاد کی بَہاریں ہیں ، اگر اعْتِقادْ مُتَزَلْزِل ہو تو اِس طرح کے نَتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ فیض پانے کیلئے اِعتِقاد پکّا ہونا چاہے ،ڈِھلمِل یقین( یعنی کچّے یقین ) والا نہ ہو، مَثَلاً سوچتا ہو کہ فُلاں بُزُرگ سے یا فُلاں ولیُّ اللہ کے مزار پر حاضِری دینے سے نہ جانے فائدہ ہو گا یا نہیں ہو گا وغیرہ۔ ایسا شخص فیض نہیں پا سکتا ۔ نیز فیض ملنے میں وقت کی کوئی قید نہیں ہو تی اپنا اپنا مقدرہو تا ہے کسی کو فور اًفیض مل جاتا ہے کسی کا برسوں تک کام نہیں ہوتا۔ کام ہو یا نہ ہو'' یک در گِیرو مُحکَم گیر '' یعنی ایک دروازہ پکڑ اور مضبوطی کے ساتھ پکڑ'' کے مِصداق پڑے رَہنا چاہے۔ ؎