پیر صاحب کا ہوں مگر میں امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے طالب ہوں ۔میں نے اپنی جیب سے امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا عطاکردہ رسالہ'' شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ '' نکالا اور انہیں پیش کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ آج رات اسے اپنے سرہانے رکھ لیجئے گا ، ان شاء اللہ عَزَّوَجَلّ َفائدہ ہوگا ۔انہوں نے شجرہ عطاریہ کا رسالہ لیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے الوداعی سلام کے بعد رُخصت ہوگئے ۔
دوسرے دن جب میں مدرسے پہنچا تو مجھے وہی اسلامی بھائی دوبارہ دکھائی دئيے ۔اب کی باروہ بہت ہشاش بشاش دکھائی دے رہے تھے ۔انہوں نے بتایا کہ میں پہلے بھی آیا تھا مگر آپ سے ملاقات نہ ہوسکی ،اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ سرہانے رکھنے کی برکت سے میں کم وبیش 15سال بعد سُکون کی نیند سویا ہوں ۔آج مجھے کوئی جلتا ہوا دِیا بھی نظر نہیں آیا۔'' تادمِ تحریر دوسال کا عرصہ ہوچکا ہے مذکورہ اسلامی بھائی کی پریشانیاں بتدریج دور ہوچکی ہیں ،ان کی زوجہ پھر سے ان کے ساتھ رہنے لگیں اور دیگر روحانی مسائل بھی حل ہوگئے۔ یوں تعویذات عطاریہ اور شجرہ عالیہ کی برکت سے ان کی خزاں رسیدہ زندگی میں خوشیوں کی بہار آگئی ۔