| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
شجرہ عالیہ کے ہرشعر میں کسی نہ کسی بزرگ کا وسیلہ پیش کیا گیا ہے اور وسیلہ اختیار کرنے کا حکم خُود ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ نے دیا ہے چنانچہ سورۃُ المآئدہ کی آیت نمبر35 میں ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الْوَسِیۡلَۃَ
ترجَمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔(پ۶،المائدہ : ۳۵)
مُتَعَدَّد احادیثِ مبارَکہ میں اس بات کا واضح ثُبوت موجود ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اَنبیاء اَولیاء کا وسیلہ پیش کرنادعاؤں کی قَبولیت کا آسان ذریعہ ہے۔
بینائی واپس آگئی
حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن حُنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور اپنی نابینائی کی شکایت عرض کی ، آپ نے ارشاد فرمایا:''صبر کرو۔'' عرض کی :''مجھے ہاتھ پکڑ کر چلانے والا کوئی نہیں ہے ،جس کی وجہ سے مجھے مشقت کا سامنا ہے ۔''ارشاد فرمایا:''جاکر وُضو کرو اور دو رَکْعَت نمازپڑھ کر یہ دعا کرو:اللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا مُحَمَدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَۃِ یَا مُحَمَّدُ إِنِّيْ اَتَوَجَّہُ بِکَ إِلٰی رَبِّيْ فَتُقْضٰی لِيْ حَاجَتِي
یعنی اے اﷲعَزَّوَجَلَّ! میں اپنے نبی رحمت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وسیلہ جلیلہ سے تجھ سے مانگتا اورتیری طرف توجہ کرتاہوں۔یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم!میں آپ کے وسیلہ سے اپنے ربّ( عَزَّوَجَلَّ) کی طرف اپنی اس حاجت کے بارے میں متوجہ ہوں تاکہ وہ پوری ہوجائے ۔