Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
20 - 216
۲۱واں شعر '' اَحْیِنَا فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا الخ ''کے بارے میں حتمی طور پرمعلوم نہ ہوسکا کہ کس کا ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دعائیہ اشعار کی ایک خوبی
     اِن دعائیہ اشعار کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ مصرع میں جہاں کسی بُزُرگ کے نامِ مبارَک یا ان کے مشہور وَصف کو ذکر کرتے ہوئے وسیلہ بنا کر بارگاہِ الٰہی میں دعا مانگی گئی ہے وہیں اس نام کے الفاظ کی مناسبت سے اﷲعَزَّوَجَلَّ سے نعمت طلب کی گئی ہے اور کہیں نام مبارَک کے معنی کے اعتبار سے مراد مانگی گئی ہے جیسے مشکلیں حل کر '' شہ مُشکل کُشا '' کے واسِطے ۔ اس مصرع میں مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے مشہور و معروف وَصف '' مُشکل کُشا '' کو ذکر کرکے اللہ تعالیٰ سے مشکلیں آسان ہونے کی دعا کی گئی اور ساتھ ساتھ '' مُشکل کُشا ''اور ''مشکلیں '' کے الفاظ میں استعمال ہونے والے حُروف (ش ،ک ،ل ) میں یہ مناسبت ہے کہ ان کے معنی ایک ہیں اور کبھی صرف الفاظ کے لحاظ سے مناسبت یوں پائی گئی جیسے ''کربلائیں رَدّ ''شہیدِ کربلا کے واسِطے '' اس مصرعہ میں''کربَلائیں رَدّ''کا معنی کچھ ، اور''کربَلا'' کا کچھ اور ہے، یہاں شہید کربلا کا واسطہ دے کر بلاؤں سے حفاظت طلب کرنے میں معنوی مناسبت نہیں بلکہ لفظی مناسبت اس لطیف اندا ز میں ہے کہ دونوں کلموں میں''کربَلا'' کی شکل بن گئی ہے حالانکہ دونوں کے معنی مختلف ہیں ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter