Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
208 - 216
سے اپنی پریشانی کچھ اس طرح سے بیان کی کہ ہم حیدرآباد (سندھ)میں خوش وخُرم زندگی بسر کررہے تھے، خاندان والوں کی آپس میں محبت مثالی تھی ۔مگر ہمارے ہنستے بستے خاندان کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ زمین کے تنازع کی وجہ سے آپس میں جھگڑے شروع ہوگئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے دکھائی دینے لگے ۔ میری جان لینے کی بھی کئی مرتبہ کوشش کی گئی مگر مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے بچا لیا ۔ سوتے میں کوئی ان دیکھی قوت میرا بازومروڑ کر مجھے چارپائی سے نیچے گرادیتی تو کبھی میری چارپائی ہوا میں معلق ہوجاتی ۔ ایک بار تو کسی کے چھوئے بغیر پانی کا مٹکا دوٹکڑے ہوگیا جس سے ہم اور زیادہ خوف زدہ رہنے لگے ۔انہی پریشانیوں میں 15سال کا طویل عرصہ گزر گیا ،علاج کے لئے لاکھوں روپے ڈاکٹروں اور عاملوں کی نذر کئے مگر کوئی حل نہ نکل سکا بلکہ حالات مزید بگڑ گئے ۔میری بیوی روٹھ کر میکے میں جابیٹھی ،میں نعمتِ اولاد سے بھی محروم تھا ۔ میری توراتوں کی نیند اڑگئی۔پہلے پہل تو حیدر آباد میں ہی تنہائی کی زندگی بسر کرتا رہا پھر پریشان ہوکر ''خدا کی بستی '' میں مکان لیا ہے ۔یہاں فیضانِ مدینہ سے تعویذات عطّاریہ لئے ہیں جس سے الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ کافی فرق ہے مگر رات میں دئيے کی مانند کوئی چیز جلتی ہوئی نظر آتی ہے ۔آپ دعا کیجئے کہ میری بے خوابی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے ۔ ان کی درد بھری داستان سن کر میں نے تسلی دی اور پوچھا :آپ کس کے مُرید ہیں ؟ فرمانے لگے : مُرید تو کسی اور