Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
207 - 216
اٹھ کر بیٹھ گئی ۔چیخ اس قدر خوفناک تھی کہ میں بھی خوفزدہ ہوگئی ۔مدنی منی کے چہرہ خوف سے پیلا ہورہا تھا ۔میں شدید پریشان تھی کہ اب کیا کروں؟ اسی پریشانی کے عالم میں مجھے مکتبۃ المدینہ سے شائع ہونے والے تعویذاتِ عطاریہ کی بہاروں پر مشتمل رسالے'' خوفناک بلا'' میں لکھی جانے والی ایک بہار کا خیال آیا کہ کس طرح ایک اسلامی بھائی امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے عطاکردہ رسالے'' شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ '' اپنے پاس رکھنے کی برکت سے خوفناک بلا سے محفوظ رہے۔اس خیال کا آنا تھا کہ میں نے اسی وقت شجرہ عطاریہ نکالااوراپنی مدنی منی کے سرہانے رکھ دیا۔ الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ شجرہ  عطاریہ سرہانے رکھنے کی برکت سے میری مدنی منی کی طبیعت بحال ہونے لگی اور وہ بقیہ رات سکون کی نیند سوئی۔شجرہ عطاریہ کی یہ برکت دیکھ کر میں نے باقاعدگی سے شجرہ عطاریہ سرہانے رکھنا شروع کردیا ۔ الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر کبھی میرے بچے نیند میں نہیں ڈرے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (47)سکون کی نیند سویا
    بابُ الاسلام (سندھ) کے شہر کوٹ عطاری(کوٹری)کے مقیم اسلامی بھائی (جو مدرسۃ المدینہ''خدا کی بستی'' میں مُدرّس ہیں)کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ میں حسب معمول طلبہ کو قراٰن پاک پڑھانے میں مصروف تھا کہ ایک اسلامی بھائی (عمر تقریباً 65سال)میرے پاس آئے جن کے چہرے پر آثارِ غم نمایاں تھے ۔ انہوں نے مجھ
Flag Counter