| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
مولانا شاہ حامد رضا خان صاحب خلف اکبر(یعنی بڑے بیٹے)اعلیٰ حضرت (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کے جانشین ہوئے تو ایک شعر(یعنی انیسواں) انہوں نے اعلیٰ حضرت (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کے نامِ نامی کا اضافہ فرمایا:
کر عطا احمد رضا ئے احمد مُرسل مجھے
میرے مولیٰ حضرت احمدرضا کے واسطےاور مقطع میں بجائے'' احمدرضا ''،''اِس بے نوا'' بنادیااور اس کو اس طرح پڑھنے لگے :
صَدْقہ اِن اَعیاں کا دے چھ عین، عِزّ، عِلم وعَمَل
عَفْوو عرفاں، عافیت،اِس بے نوا کے واسِطے(حیاتِ اعلیٰ حضرت ج سوم ، ص ۵۴تا۵۶)
(مدینہ :یہاں لفظ''واسطے'' ،''کے لئے '' کے معنی میں ہے)
جبکہ یہ اشعار(یعنی۲۰واں اور۲۲واں )عاشقِ اعلیٰ حضرت، شیخِ طریقت امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے ہیں: پُر ضیاء کرمیرا چہرہ حَشْر میں اے کبریا( عَزَّوَجَلَّ)
شَہْ ضیاء ُالدین پیرِ با صَفا کے واسِطے
(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
اور۔۔۔۔۔۔
عشقِ اَحمد میں عطا کر چشمِ تَر سوزِ جِگَر
یاخُدا اِلیاس کو اَحمد رضا کے واسِطے